دیوار ِگریہ

اِس لمحے

جب ماتھے پر نیلی ناگن لہراتی ہے

حیرت کی شمعیں جلتی ہیں آنکھوں کے زندانوں میں

سینے کی اُڑتی مِٹّی نے

چہرے پر

ناموزوں مصرعے لکھّے ہیں

کون یہ دروازے پر دستک دیتا ہے؟

باہر سنّاٹا ہے

لیکن گھر کے اندر

ایسا شور ہے، ایسا شور ہے

جیسے اب اک پیلی آندھی

جلتی بجھتی آنکھوں کی یہ شمعیں لے کر

چہرے کی رنگت کی صورت

اُڑ جائے گی

صحراؤں میں گھوم گھوم کر

دریاؤں کے ہونٹ چوم کر

دیوارِ گریہ کی جانب مُڑ جائے گی

 

 

 ہمارے نام

Name

E-mail address

Subject

Comment