
سوانحی خاکہ
اصلی نام ”مرزا عظیم احمد بیگ چغتائی“ تھا جبکہ ”شبنم رومانی“ تخلّص کرتے تھے ان کے والد ”مرزا اظہر بیگ چغتائی“ (جو خود بھی شاعر تھے) کا انتقال شبنم صاحب کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا شاعری میں اعتبار الملک دل شاہجہانپوری (جانشینِ امیر مینائی) کے شاگرد رہے سات کتابیں تصنیف کیں ، کئی کتابوں کی تالیف اورتدوین کیں فروری17، 2009ء کو کراچی (پاکستان) میں انتقال کر گئے سن 1948ء میں بریلی کالج (آ گرہ یونیورسٹی) سے بی کام کیا سن 1949ء سے 1948ء تک اسلامیہ انٹر کالج شاہجہانپور میں تدریس سے وابستہ رہے، 1949ء سے 1950ء تک کنزیومرزکوآپریٹوز اسٹورز،شاہجہانپور کے اکاؤنٹنٹ اور پھر اسسٹنٹ سیکریٹری رہے ستمبر 1950ء میں شاہجہانپور میں مسلم کش فسادات کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی سن 1950ء میں پاکستان کی وزارتِ دفاع کی ملازمت اختیار کی اور جولائی 1989ء میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پاکستان نیوی) کی حیثیت سے ریٹائر ہو ئے سن 1947ء سے 1948ء تک بریلی سے ادبی رسالہ ماہنامہ ”شبنم“بریلی جاری کیا اور اس کے مدیر رہے سن 1968ء سے ”اربابِ قلم“ کے ادبی مجلے کی ادارت کرتے رہے سن 1973ء سے 1983ء تک روزنامہ ”مشرق“ کراچی میں ”محفل محفل“ کے عنوان سے ادبی کالم لکھتے رہے سن 1983ء سے 1985ء تک روزنامہ ”مشرق“ کراچی کے ادبی صفحے کے مدیر رہے سن 1990ء میں ادبی رسالہ سہ ماہی ”اقدار“ جاری کیا اور وفات تک اُس کی اِدارت میں مصروف رہے سن 1952ء سے 1954ء تک انجمنِ ترقّیِ اُردو (سندھ) کے اعزازی لائبریری سیکریٹری رہے ادیبوں کے ساتھ مل کر ”اربابِ قلم“ کے نام سے پاکستان بھر میں ایک تنظیم قائم کی جس کے کنوینر کے فرائض انجام د یے افکار فاؤنڈیشن“ کے ٹرسٹی رہے” آرٹس کاؤنسل آف پاکستان،کراچی کے رکن رہے پاکستان رائٹرز گلڈ کے رکن رہے آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے رکن رہے مکتبہءِ اربابِ قلم کے بانی اور نگران تھے جس کے تحت ایک درجن سے زیادہ کتابیں شائع کیں ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئی پروگرام کیے