شب چراغ کر مجھ کو اے خدااندھیرے میں سبز شجر سے توڑ کے رشتہ اب پچھتاتےہیں
لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر،صدیوں کی یلغار یادوں کے یہ جگنو مری آنکھوں میں نظربند اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے جب امتحانِ لب و زلف و قد سے گزرا ہوں ہوا ڈھونڈتی ہے،کہ یہ چور سا کون زینے میں ہے؟ کیسا لمحہ تھا جو چلے تھے خوشبو سے منہ موڑ کے ہم وہ جو سورج سے بھی تابش میں سِوا ہوتا ہے تری زندگی میں نہ لکھ سکا تری ذات کا کوئی ماجرا |